میدان عرفات کی تاریخی وتشریعی حیثیت
میدان عرفات کی تاریخی وتشریعی حیثیت ابو عبدالبر عبدالحی السلفی میدان عرفات کا محل وقوع میدان عرفات، مکہ سے مشرق کی جانب طائف کی راہ پر 21 کلو میٹر دورشمال سے جنوب تک 12 کلو میٹر اور مشرق سے مغرب تک 5 کلو میٹر ایک بڑا وسیع و عریض میدان ہے جہاں حجاج کرام 9 ذی الحجہ کو جمع ہوتے ہیں۔ یہ میدان سال بھر غیر آباد رہتا ہے اور صرف ایک دن 9 ذی الحجہ کو 8 سے 10 گھنٹوں کے لیے ایک عظیم الشان شہر بنتا ہے۔ حجاج يہاں دو نمازيں ادا کرتے ہیں اور غروب آفتاب کے ساتھ ہی اس کی تمام آبادی رخصت ہو جاتی ہے عرفات میں سعودی حکومت کی بے انتہا جدوجہد اور کاوشوں سے زبردست شجر کاری کی گئی جس کی وجہ سے بیشتر حجاج خیموں کے بجائے نیم کے درختوں کے نیچے چادر، دری یا جائے نماز بچھا کرعبادت'ذکر واذکار توبہ واستغفار میں دن بھر مشغول رہتے ہیں نیز سورج کی تپش سے بچانے کے لئے جگہ جگہ اونچے اونچے کھمبے نصب کئے گئے ہیں اور اس کے بالائی حصے سے ٹھنڈا پانی فوارے کی شکل میں گرتارہتا ہے جس سے ماحول میں خنکی پیدا ہوجاتی ہے۔ عرفہ کی وجہ تسمیہ: عرفہ کی وجہِ تسمیہ کے متعلق کئی وجوہات اور متعدد روایات بیان...
Comments
Post a Comment